حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کانودر، گجرات/ مسجد امام علیؑ کانودر، گجرات میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید یاسین حسین عابدی نے والدین کے حقوق، بڑھاپے میں ان کی خدمت، اولاد کی ذمہ داریوں، شریکِ حیات کے حقوق اور گھریلو زندگی میں محبت، احترام، صبر و درگزر کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے قرآن کریم کی سورۂ بنی اسرائیل کی آیتِ کریمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور خصوصاً ان کے بڑھاپے کو اولاد کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان بچپن میں والدین کا محتاج ہوتا ہے تو ان کے ساتھ رہنا اور ان کی بات ماننا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اولاد تعلیم مکمل کرکے خود کمانے لگتی ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے۔ ایسے وقت میں یہ احساس پیدا ہونا کہ اب مجھے والدین کی ضرورت نہیں یا وہ مجھ پر منحصر ہیں، انسان کو تکبر اور ناشکری کی طرف لے جاسکتا ہے، حالانکہ جن ہاتھوں نے بچپن میں اسے سنبھالا، جن آنکھوں نے اس کی کامیابیوں پر خوشی محسوس کی اور جن قدموں نے اسے چلنا سکھایا، ان کے کمزور ہوجانے پر ان کی خدمت اور احترام ہی اس کی حقیقی تربیت کا امتحان ہے۔
مولانا سید یاسین حسین عابدی نے کہا کہ قرآن کریم نے والدین کے سامنے معمولی سے معمولی اظہارِ ناگواری، حتیٰ کہ ’’اُف‘‘ کہنے سے بھی منع کیا ہے اور اس کے بجائے ان سے عزت و احترام کے ساتھ گفتگو کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے توجہ دلائی کہ والدین کو گالی دینا، جھڑکنا، چیخنا چلانا یا بے عزتی کرنا تو درکنار، بعض اوقات زبان سے کچھ نہ کہنے کے باوجود چہرے کے تاثرات، آنکھوں کے انداز اور رویے سے بھی والدین کو اذیت پہنچائی جاتی ہے، جس پر انسان کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔
امام جمعہ کانودر نے روایات میں والدین کی ناراضی اور نافرمانی کی بیان شدہ سخت مذمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے والدین اس کے رویے سے خوش ہیں یا رنجیدہ۔ انہوں نے سامعین کو نصیحت کی کہ اگر والدین حیات ہیں تو ان کی خدمت اور قدر دانی کو غنیمت سمجھیں، ان کے ساتھ محبت سے پیش آئیں اور اگر کبھی ان کا دل دکھایا ہو تو معذرت کریں، جبکہ والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے حقوق ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے دعا، صدقہ و خیرات اور نیک اعمال کے ذریعے ایصالِ ثواب کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے والدین کے لیے قرآن کی سکھائی ہوئی دعا کو بھی یاد دلایا کہ انسان اللہ سے ان پر اسی طرح رحمت کی دعا کرے جس طرح انہوں نے بچپن میں اس کی پرورش کی۔
خطبے کے دوسرے حصے میں انہوں نے شریکِ حیات کے حقوق اور گھریلو زندگی کے آداب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ضروری ہے، اسی طرح بیوی اور بچوں کے ساتھ بھی محبت، احترام اور حسنِ اخلاق کا برتاؤ دینی تعلیمات کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد گھر سے باہر دوسروں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کے لیے وقت و وسائل صرف کرتے ہیں، لیکن گھر پہنچنے کے بعد ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے؛ اس طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کے رسالۃ الحقوق میں بیان کردہ شریکِ حیات کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے کو سکون اور انس کا ذریعہ قرار دیا ہے، اس لیے شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ عزت، نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گھر والوں کے لیے وقت نکالنا، انہیں ساتھ لے کر گھومنا، ان کی ضروریات اور جذبات کا خیال رکھنا بھی خاندانی ذمہ داری کا حصہ ہے؛ گھر کا سکون صرف مالی وسائل سے نہیں بلکہ وقت، محبت، توجہ اور احترام سے قائم ہوتا ہے۔
مولانا سید یاسین حسین عابدی نے میاں بیوی کے درمیان اختلافات کے حوالے سے صبر، معافی اور درگزر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں انسان ہیں اور دونوں سے غلطیاں ہوسکتی ہیں، اس لیے ہر معمولی کوتاہی کو جمع کرکے ایک دوسرے کا حساب کھولتے رہنا گھر کے سکون کو ختم کردیتا ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی اس تعلیم کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ نے میاں بیوی کے درمیان سکون، محبت اور رحمت رکھی ہے، لہٰذا گھر کو عدالت یا عداوت کا مرکز بنانے کے بجائے محبت اور رحمت کی جگہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی تربیت میں گھر کا ماحول بنیادی کردار ادا کرتا ہے؛ اگر بچے والدین کے درمیان محبت، احترام، صبر اور معافی دیکھیں گے تو یہی اقدار ان کی شخصیت کا حصہ بنیں گی، جبکہ مسلسل چیخ و پکار، بے عزتی اور لڑائی جھگڑے کا ماحول ان کی تربیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ خطبے کے اختتام پر انہوں نے عہد کرنے کی تلقین کی کہ والدین کی زندگی میں ان کی قدر و خدمت کی جائے، ان کے بڑھاپے کو بوجھ نہ سمجھا جائے، ان کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور ان کے انتقال کے بعد بھی دعا و نیک اعمال کے ذریعے ان سے وفاداری کا اظہار جاری رکھا جائے، جبکہ اپنے گھروں میں بھی محبت، رحمت، احترام، برداشت اور درگزر کو فروغ دیا جائے۔









آپ کا تبصرہ